بھٹکل یکم نومبر (ایس او نیوز) 26 نومبر کو یوم تشکیل دستور ہند منایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے مورخہ ۲۶/اکتوبر ۲۰۱۷ بروزجمعرات انجمن پی یو کا لج فار ویمن بھٹکل میں پرنسپل ڈا کٹر فر زانہ محتشم کی زیرِ نگرانی یومِ تشکیلِ دستورِ ہندکا جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں محترمہ گلشن مٹیگا ر (پا لٹیکل سا ئنس لکیچرر) نے دستور ہند کے متعلق مکمل معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ملک کے اپنائے گئے بنیا دی قوانین کو دستور کہتے ہیں۔ دستور ، حکومتی نظا م کو چلا نے کے لیے ایک رہنما کا کا م انجام دیتا ہے۔ ہندوستان کے دستور کی تشکیل کے متعلق انہوں نے کہا کہ دستور کی تشکیل کے لیے ایک دستور مسودہ کمیٹی بنا ئی گئی۔ اور اس کمیٹی کے چیر مین ڈا کٹر بی ۔آر امبیڈ کر تھے۔ اور دستور سا ز اسمبلی کے صدرڈا کٹر را جیندر پرساد چنے گئے۔ ۲۶ نومبر ۱۹۴۹ کو ہندو ستا ن کا دستور نا فذ ہوا۔ ہندوستان کا دستور تحریری اور دنیا کا سب سے طویل دستور ہے۔جو کل با رہ (۱۲)ابواب اور ۴۴۴دفعات پر مشتمل ہے۔ مزید فرما یا کہ ہمارے ہندوستان کا دستور عوام کے اصولوں اور امیدوں کو ظا ہر کرتا ہے۔ اور اس ملک میں بسنے والے تما م شہریوں کے لیے بلا امتیا زرنگ و نسل ، جنس کے یکساں طور پر انصاف ، سما جی ،معا شی اور سیا سی آزادئ خیا ل ،اظہارِ عقیدہ، عبا دت اور مسا وات کے حقوق دےئے گئے ہیں۔آخر میں انہوں نے اپنے خطا ب میں دستور کی اہمیت کو اُجاگرکر تے ہوئے بتایا کہ ہر ہند وستانی شہری کو یہ معلوم ہونا چا ہئے کی یہ دستور کن حا لا ت میں بنا اور فی زما نہ اس دستور کو کس حد تک عمل میں لا یا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام الناس کو اس تعلق سے جانکاری فراہم کرنے کے لئے تعلیمی بیداری کی ترغیب دی اور کہا کہ بغیر تعلیم حاصل کئے، ہم ہر گز اپنے دستور کو جا ن نہیں سکتے اور اپنے بنیا دی حقوق کو پہچا ن نہیں سکتے۔ محترمہ طا لعہ کریکا ل نے انا ؤنسنگ کی ذمہ داری سنبھا لی تھی، آخر میں ان ہی کے شکریہ کے سا تھ جلسہ اختتا م پذیر ہوا۔